Monday, 25 December 2017

کاش قائدمل جائے

قائداعظم کو فیس بک جوائن کرنے کی دعوت دے کر میں بڑا پریشان ہوا۔۔۔ 🤔🤔
جب وہ گروپ میں آئے تو۔۔۔ میں نے سوچا اب میری خیر نہیں یا گروپ کی۔۔۔
ڈی پی پر علامہ اقبال کی تصویر۔۔۔
اور فیس بک نام
”محمد علی جناح“
مجھ پر تو ایسا رعب طاری ہوا۔۔ کہ میرا جسم کانپنے لگا۔۔۔
قائد مسکرائے۔۔۔ اور۔۔🙄
بڑی ہی دھیمی میٹھی اور رعب دار آواز گونجی۔۔۔
”فکر نہ کرو ۔۔۔۔ یہ سب انہیں کے وارث ہیں۔۔۔ جنہوں نے پاکستان کے لیے جان دی تھی۔۔۔
گھر چھوڑے تھے۔۔۔ گلے کٹوائے تھے۔۔۔
اُنہیں ماؤں کی بچیاں ہیں جنہوں نے عزتیں بچانے کی خاطر کوئیں میں چھلانگیں لگائیں۔۔۔۔ “
میں حیران ہوا کہ قائد کو غصہ کیوں نہیں آیا۔۔۔
فیس بک پر ہر کوئی بے ہودہ پوسٹس اور مذاق کر رہا ہے۔۔۔
لڑکیاں سر عام ہنسی مذاق کا حصہ ہیں۔۔
۔ گھٹیا جملوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔۔۔
اور قائد نے ان کو ۔۔۔ ان عظیم مجاہدوں کے وارث قرار دے دیا۔۔۔جن کے لہو سے سیراب ہو کر پاکستان کی فصل تیار ہوئی۔۔۔۔
قائد میری جانب دیکھ کر مسکرائے۔۔۔ ”اجنبی میں جانتا ہوں تم کیا سوچ رہے ہو۔۔۔۔
میں مانتا ہوں یہاں زیادہ تر بے حیائی کا بسیرا ہے۔۔۔ مردہ ضمیر ہیں۔۔۔ مگر۔۔۔ ایک راز کی بات سنو۔۔۔۔“
”جی جی قائد محترم۔۔۔ اے میرے عظیم رہبر ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بتائیے راز کی بات۔۔۔۔۔میں ہمہ تن گوش ہوں۔۔۔“
”جانتے ہو ؟؟؟ روشنی چراغ سے ہی ہوتی ہے۔۔۔ مگر چراغ روشن کرنے والا کوئی ہو تو۔۔۔ چراغ روشن ہو گا۔۔۔۔“
”مم معاف کرنا میرے نہایت ہی عظیم لیڈر معاف کرنا میں نہیں سمجھا“
۔۔۔ ”کوئی بات نہیں میں سمجھاتا ہوں۔۔۔ آؤ۔۔۔۔میں تمہیں ماضی میں لے جاؤں۔۔۔ میری انگلی پکڑ کر وہ چلے۔۔۔
آؤ۔۔۔ آ جاؤ۔۔۔۔ بہت پیچھے لے گئے۔۔۔ بہت دور۔۔۔۔ اور بولے۔
”وہ پہاڑ کے نیچے دیکھو۔۔۔۔۔ مسلمان بادشاہ عیاشیاں کر رہے ہیں۔۔۔ وہ دیکھو۔۔۔ نوجوان مستیاں کر رہے ہیں۔۔۔ وہ دیکھو لڑکیاں بے حیائی کی آخری منزل بھی چھوڑ چکی ہیں۔۔۔
اب دیکھو انگریز نے بادشاہت چھین لی ہے۔۔۔
۔ مسلمان محکوم ہو گیا ہے۔۔۔ غلامی قبول کر بیٹھا ہے۔۔۔۔۔
اپنی حیا و شرم عزت و وقار سب بھول چکا ہے۔۔۔۔۔
آؤ اور آگے آؤ۔۔۔
بے حیائی دیکھو۔۔۔ غلامی دیکھو۔۔۔۔ اور مردہ ضمیر دیکھو۔۔۔۔ ویسے ہی ہیں ناں۔۔؟ جیسے مجھے فیس بک پر دکھائے۔۔تھے۔۔۔؟“
”ججج جی میرے عظیم قائد۔۔۔ بہت بھٹکی ہوئی قوم ہے۔۔۔یہ۔۔۔۔ فیس بک سے بھی زیادہ۔۔بھٹکی ہوئی۔۔۔مگر یہ کون ہیں۔۔۔ “۔
”یہ وہی ہیں۔۔۔ جنہوں نے مسلمانوں کو غلام بنوایا تھا۔۔ انگریز کا۔۔۔“
”آؤ اب۔۔ آگے آؤ۔۔۔ اور آگے۔۔۔۔ یہ وہی قوم ہے ناں ۔۔؟ سوئی ہوئی۔۔۔۔ بے ضمیر۔۔۔؟؟“
”جج جی قائد حضور۔۔۔“
”ہاں۔۔۔ اب وہ دیکھو ۔۔۔۔ کون ہے؟؟؟“
”آآ آپ ۔۔۔ اور علامہ اقبال ہیں حضور۔۔۔۔ اور کچھ علما۔۔۔۔۔“
”سنو ۔۔۔ اقبال اس قوم کی مردہ ضمیری پر کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔ غور سے سنو۔۔۔۔۔۔“
میں نے کان لگائے۔۔۔ کاش وقت رک جاتا ۔۔۔ اور وہ روحانی آواز میں سنتا رہتا۔۔۔ اقبال بڑے یقین سے شعر پڑھ رہے تھے۔۔۔
”نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے زوق نہیں راہی“
”سمجھ آئی ناں۔۔۔؟؟؟ وہ کہہ رہے ہیں۔۔۔ اس قوم سے نا امید نہ ہونا۔۔۔۔
اِسی قوم کو جگایا تھا ہم نے۔۔۔۔ کیونکہ ہم جانتے تھے۔۔۔ یہ جیسے بھی ہیں مسلمان ہیں۔۔۔
ان کی مٹی بڑی زرخیز ہے۔۔۔۔
بس کوئی اِن کو سیراب کر دے تو۔۔۔ ایسی فصل تیار ہو گی کہ جس کی شان۔۔۔ دنیا دیکھے گی۔۔۔“
”آپ ۔۔ فرما رہے ہیں کہ۔۔۔ یہ فیس بک والے یا آج کے مسلمان بھی ویسے ہی جاگ سکتے ہیں؟؟؟
بس کوئی جگانے والا چاہیے؟؟؟
اِن سے بے امید نہ ہوں ۔۔؟“
میں نے سوال کیا۔۔
”ہاں۔۔۔ ایسی ہی قوم کو جگایا تھا۔۔۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے۔۔
۔ بھٹکے ہوئے لوگ جب اپنی اصل کی جانب لوٹے تو۔۔۔ دنیا حیران ہوگئی۔۔۔۔
اور انگریز گھٹنے ٹیک گیا۔۔۔
وہ جانتا تھا۔۔۔ جب یہ قوم جاگ گئی۔۔۔ تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا کے رکھ نہیں سکتی۔۔۔
بس ہم نے جگا دیا تھا۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔ کیا تھا۔۔۔
اِن کو بھی جگانے والا کوئی آیا تو۔۔۔۔۔ جاگ جائیں گے۔۔۔۔۔ ان کی مٹی بھی زرخیز۔۔۔ ان کا خون بھی وہی۔۔۔۔
اِن کے لہو میں اُن کا ہی غیرت مند لہو۔۔۔
یہ بھی چراغ ہیں۔۔۔ ان کو جلاؤ۔۔۔۔ روشنی انہیں سے ہو گی۔۔۔۔“
”حقیر جان کر بجھا دیا ہے جن کو تُو نے
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی“

۔۔۔۔ میں چلتا ہوں۔۔۔ یقین رکھو۔۔۔۔ یہ زمین بڑی زرخیز ہے۔۔۔۔ اسے سیراب کرو۔۔۔ سیراب کرو۔۔۔۔
کبھی بھی خیال نہ کرنا کہ یہ فیس بک پر بے حیا نظر آنے والے۔۔۔۔ سُدھر نہیں سکتے۔۔۔۔۔ یقین رکھنا۔۔۔۔ یہ مسلمان ہیں۔۔۔۔ اور مسلمان کا ضمیر سو جاتا ہے۔۔۔۔ مرتا نہیں۔۔۔۔ اور سوئے ہوئے کو جگا لو۔۔۔۔اللہ حافظ“
آئی ڈی ڈی ایکٹیویٹ کر کے۔۔۔
میرے قائد جا چکے تھے۔۔۔۔ اور مجھے امید دے گئے تھے۔۔۔۔۔۔ کہ ایک دن سب جاگ جائیں گے۔۔۔۔
میں بھی واپسی کے لیے اٹھا۔۔۔ خیالوں میں۔۔۔۔
اقبال کو دیکھا تو امید مزید بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔ وہ سامنے لوگوں کے درمیان کھڑے وہ بڑے یقین سے کہہ رہے تھے۔۔۔۔
میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔۔
”نومید نہ ہو۔۔۔۔۔۔ان سے۔۔۔۔۔۔
نومید نہ ہو ان سے۔۔۔۔۔۔اے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
meriduniya129.blogspot.com

کاش ہمیں جگانے والا کوئی۔۔۔قائدمل جائے ۔۔۔۔۔۔ سب فریبی۔۔۔ فریب دے رہے ہیں۔۔۔ جگانے والا کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔

پیسہ بن جائے جب زباں صاحب

پیسہ بن جائے جب زباں صاحب
کس کو سچا کہیں وہاں صاحب

یہ غلامی ہے ناخداؤں کی
سوچ اپنی ہے اب کہاں صاحب

کس کی پھر سچ تلک رسائی ہو
جھوٹ پڑتا ہے درمیاں صاحب

چاہے عالم ، بزرگ ، ملا ہو
سب کے ہیں نو رتن بیاں صاحب

کون میرے جہان کی سوچے
اپنا اپنا ہے اب جہاں صاحب

ایک بس میرا گھر بچا لینا
پھونکئے اور سب مکاں صاحب

اب قلم ہو ، زبان ہو ، دل ہو
ان سے اٹھتا ہے بس دھواں صاحب

سب حقیقت سے منہ چھپاتے ہیں
یہاں  بِکتے  ہیں بس گماں صاحب

جھوٹ در جھوٹ جھوٹ ہے سارا
سچ ہے نا پید اب یہاں صاحب

مانا شیطاں زمیں پہ حاوی ہے
کاہے چپ ہے یہ آسماں صاحب

کیسے بولوں یہاں میں سچ ابرک
لوگ کہتے ہیں بد زباں صاحب

Saturday, 23 December 2017

مرنے کے بعد قبر میں جو جانورسب

کیا آپ جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد قبر میں جو جانورسب
 سے پہلے آپ کے مردہ تن کو کھاتا ہے اسکا نام کیا ہے؟ یہ بجو ہے جو صرف قبرستان میں نئی میتوں کے انتظار میں پڑا رہتا ہے ۔جب بھی کوئی انسان قبرستان میں جاتا ہے تو کھدی ہوئی قبروں میں سے اسکو کئی طرح کے کیڑے مکوڑے نکلتے بھی نظر آتے ہیں اور قبروں میں بنی بلوں کو دیکھ کر اسکے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ ان میں کیا سانپ رہتے ہیں؟ انسان غور کرے تو آنے والے وقت میں وہ بھی ان جیسی کسی قبر میں پڑا ہوگا اور اسکی قبر میں بھی ایسے کئی سوراخ و بل نظر آئیں گے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قبرستان میں سانپ اور کیڑے مکوڑے بھی ہوتے ہیں لیکن بجو ایساجانور ہے جو قبرستان پر راج کرتا ہے ۔یہ مردم خور جانور چوہے اور نیولے سے مشابہ ہوتا ہے جو تازہ تازہ میتوں تک بہت جلد پہنچ جاتا اور ان کا گوشت ہڈیوں تک کھا جاتا ہے۔
بجو بڑا سخت جان جانور ہے ۔یہ دودھ دینے والے جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔اسکے سخت جان ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر یہ ہاتھی کے پاؤں تلے بھی آجائے تو کچلا نہیں جاتا ۔اسکے پنجے اور دانت نوکیلے اور تیز دھار ہوتے ہیں ۔مٹی کو کھودنے اور لکڑی کو منٹوں میں کھوکھلا کردیتا ہے ۔بجو کئی گز تک لمبی سرنگیں کھو ڈالتے اور ایک قبر سے سرنگ نکال کر دوسری قبروں تک آتے جاتے ہیں،جونہی کوئی تازہ میت دفن کی جاتی ہے ان کی حسیات انہیں مطلع کردیتی ہیں کہ ان کا شکار پہنچ گیا ہے۔
اللہ ھم سب کو قبر کے عذاب سے محفوظ فرمائے

Buss luot li.


بس کراچی سے
سوات جا رھی تھی۔
راجن پور کے نزدیک
ڈاکوؤں نے روک لیا ۔اور
بس کے اندر گھس گئے
ان میں سے ایک ڈاکو
گرجدار آواز میں کہتا  ھے۔۔
سب لوگ اپنا سامان نکالو
اور کوئی آواز نہ آٰئے۔
جس کی آواز آئی گولی
مار دونگا
مسافروں پر خوف طاری تھا
بس کا انجن بند ھو چکا تھا
موت کے جیسے خاموشی چھا گئی تھی
اس سے پہلے کہ مسافر
اپنا سامان نکالنا شروع کرتے
بس کی سیٹ نمبر 24 سے
ایک لڑکی اٹھ کھڑی ھوئی
جسکی عمر انیس یا بیس سال ہی تھی
براؤن بال اور بادامی آنکھیں
چہرے کا پیلا رنگ بتا رھا تھا
کہ وہ چند منٹ پہلے سفید رھا ھو گا
بس کے مسافروں اور ڈاکوؤں کے لیے
یہ صورت حال غیر متوقع تھی
سیٹ نمبر 1 سے لیکر سیٹ نمبر 20 تک
کے مسافر گردن گھما کر
لڑکی کی طرف متوجہ تھے۔
پچھلی سیٹوں والے مسافر
لڑکی کا چہرہ دیکھنے چاھتے تھے۔
ڈاکوؤں کی Ak 47اور  9mm کا
رخ لڑکی کی طرف ھو چکا تھا
بس میں
ھلکی ھلکی آواز میں
رضیہ سلطانہ اور پھولن دیوی
کا نام سنائی دینے لگا تھا۔
بس میں کلاشن کے بلٹ کی آواز آئی
اور ساتھ ہی ڈاکو کی گرجدار آواز نے
مسافروں کو مزید خوفزدہ کر دیا تھا
ڈاکو اس بار صرف لڑکی کو مخاطب تھا
جس کی طرف سب مسافر
امید سے دیکھ رھے تھے
ڈاکو نے اپنی گن کا رخ لڑکی کی طرف کیا
اور غصے سے بولا
اے لڑکی کیا مسئلہ ھے۔۔؟
لڑکی جس کا رنگ اب بالکل پیلا ھو چکا تھا
بادامی آنکھوں میں خوف کے سائے
مزید گہرے ھو چکے تھے
ڈاکو نے دوبارہ گرج کر پوچھا تھا
لڑکی کے ھونٹ کپکپائے
اور کمزور سی آواز میں کہنے لگی۔
گگگگگولی  ککککککککککککس ککککککلر کی ھو گی۔؟
پنک نا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
Hina Butt

Facebook Amil

Ek friend Hain Aliyza ye un ka masla Hy app log Kya mashwara dein gy?

Sis aj me apsy apni life ki sb sy bari problem share krny ja rhi ho plzzz suggest me sisters
Mjhy fb pr aik Amil ny kaha k apky 2 nikha hein mene usy hand pic di usny mery hisab kitab b kiya r kaha k kala ilm hei apky bewa hony k chance ya tlaq k r hsbnd ki age b 52 batai r kaha k 5 sal bad damaghi bimari ka shikar ho gy mera bataya k age b ziyada olad is hsbnd sy b ho gi r hsbnd sy b 2sry ny boht xy batien pochi hd sy ziyada gndi usny b 2 nikha ka kaha r life boht mushkil guzry gi 3sra wo tha jis boy sy me bat krti thi usny ilmul adad daikh k bataya k 2 nikha hei phir bad me bat hoty hoty mjhy I love u bola phir mene usy block kr diya sb khty is bat ka k ittafaq ho skta hai k 3no ny tlaq khi sisters plzzz understand my feelings mery ghar mj pr boht zulm b ho rha mjhy khty tm tlaq lo r nikl jao pr me sabar kr rhi q k me apny hsbnd sy hd sy ziyada love krti ho nhi gee skti usky bagair
PlZzzz koi batay sis kaya ye sach hota kaya fb pr real Amil hoty agr nhi tu 3no ny aik hi word q bola 😣😣😣😣 r meri age b 19 hsbnd ki 38 plzzz no bed cmnts

Wednesday, 20 December 2017

Kahan sy aa rahi ho?

ﺷﻮﮨﺮ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺷﺮﺍﺏ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ ۔
ﺑﯿﻮﯼ ۔۔ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﻮﻧﮕﯽ، ﺍﺗﻨﯽ
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﭼﻠﮯ
ﺟﺎﺅ ۔۔
ﺷﻮﮨﺮ ۔ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﻮﺩ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺩﮮ ﺩﻭﻧﮕﺎ
ﺑﯿﻮﯼ ۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ
ﺟﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺮﻭ ۔۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﻮﮨﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮯ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ
ﺩﻭ ﻣﻨﭧ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺳﺎ ﭘﺘﮭﺮ
ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻟﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ
ﺩﯾﺎ ﭼﮭﭙﺎﮎ
ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ
ﻧﺎﻟﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﯼ
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
ﺑﯿﻮﯼ ۔۔ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﻮ، ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ
ﭼﻼ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﻮ ﺟﮕﺎﺩﻭﻧﮕﯽ
ﺷﻮﮨﺮ ۔۔ ﺧﻮﺏ ﭼﻼﺅ، ﺟﺐ ﺗﮏ ﺳﺎﺭﮮ
ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﮯ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮﻧﮕﺎ ﮐﮧ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ
ﮐﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ۔

Acha ye batao....

صحرا میں سکونت کی اجازت  نہیں ہوتی
ورنہ میں اِدھر آؤں تو وحشت  نہیں ہوتی

اِس دشت میں اب اتنے مسائل ہیں کہ توبہ
اب خاک اُڑانے کی بھی فُرصت  نہیں ہوتی

سوچا ہی نہیں گھر سے نکلتے ہوئے ہم نے
صحرا میں چراغوں کی سہولت نہیں ہوتی

میں دیکھتا رہتا ہوں بچھڑتے ہوئے سب کو
حد یہ ہے مِرے  دل کو  اذّیت  نہیں ہوتی

جب چاہو جہاں چاہو بچھڑ جاؤ کسی سے
اتنی بھی تو آسان  محبت   نہیں ہوتی

تم ہِجر کی تفصیل مِری آنکھ سے پڑھ لو 
اِس لفظ کی اب اور وضاحت نہیں ہوتی

Tehzeeb ki lashh

Asalam o ealekum , Kuch din pehly hamari gerat kachray k dheer par pari mili thi or ab tehzeeb ki lashh ek car sy baramad hoi hay , Se...